مشترکہ خاندانی نظام کے اثرات کے مثبت یا منفی ہونے کی بحث وقت کی اہم ترین ضرورت ہے. کیوں کہ ہم اس وقت فیصلہ کن موڑ پہ کھڑے ہیِں۔ جہاں ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہمیں اس نظام کو ساتھ لے کر چلنا ہے یا مستقبل میِں اس کو خیر باد کہہ دینا زیادہ مناسب رہے گا۔ یہ نظام کیسے شروع ہوا، کہاں پہنچ چکا ہے اور اس کا مستقبل کیا ہو گا ان امور کو ذہن میں رکھتے ہوئے اِس اہم ترین سماجی موضوع پر اپنی گزارشات آپ کی بصارتوں کی نذر کرتا ہوں۔
زمانہ قدیم میں جب انسان کو اپنے سماجی حیوان ہونے کا احساس ہوا تو اولین عمرانی معاہدے کے تحت جو معاشرہ وجود میں آیا “مشترکہ خاندانی نظام” اس کا لازمی نتیجہ تھا. انسان اس وقت کائنات میں اپنے بچپن کے زمانے سے گزر رہا تھا۔ جب کہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بچپن انسانی زندگی کا کمزور ترین حصہ ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس دوران انسان کو خوراک و لباس سے لے کر حفاظت تک کے امور کے لیے دوسرے انسانوں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان تمام ضروریات کے پیشںِ نظر اس وقت مشترکہ خاندانی نظام وجود میں آیا۔ جب انسان نے “ہل” ایجاد کیا اور جانوروں کی ڈومیسٹکیشن کا آغاز کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی خوراک خود پیدا کرنے کے عمل کا آغاز کیا تو وہ دور مشترکہ خاندانی نظام کے عروج کا وقت تھا۔
مشترکہ خاندانی نظام دراصل کسی بھی زرعی معاشرے کی اہم ضرورت ہے۔ زراعت کے روایتی طور طریقوں میں “لیبر فورس” کی بہتات بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اور مشترکہ خاندانی نظام اس فور س کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ کیوں کہ ایسے معاشروں میں زراعت ہی واحد ذریعہ معاش ہوا کرتا تھا تو ایک گھر کے تمام افراد لامحالہ طور پر اسی سے وابستہ ہو جاتے۔ چونکہ ذریعہ معاش مشترکہ ہوتا تھا، وہیں سے سرمایہ نکلتا، اسی میں صَرف ہو جاتا اور سارے شراکت داروں کو وہاں سے گزر بسر کے لیے معاش بھی میسر آجاتا۔ سب کی برابر کی محنت کو برابری کی سطح پر acknowledge کیا جاتا جس سے ہر فرد کو برابر پزیرائی اور عزت حاصل ہوتی تھی۔ خاندان میں معاشی اعتبار سے کوئی بھی بڑا اور چھوٹا نہیں ہوتا تھا۔ یہ برابری خاندان کے ادارے کو مستحکم بناتی تھی۔
گھر کے سارے افراد ایک دوسرے پر مکمل انحصار کیا کرتے تھے۔ کیوں کہ کسی ایک فرد کی بغاوت سے وہ فرد خود بھی متاثر ہو سکتا تھا اور اس کی بغاوت کے نتیجے میں پورے گھرانے پر بھی اثرات مرتب ہوتے تھے یہی وجہ ہے کہ سب لوگ ایک دوسرے سے ہر معاملے میں “تعاون” کیا کرتے تھے، اختلاف کی گنجائش نہیں تھی۔ یعنی مل جل کر رہنا اور مشترکہ خاندانی نطام کو اپنائے رکھنا ان کی بقا کی ضمانت تھا۔ وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور انسان زراعت کے بعد صنعتی ترقی (industrialization) کے دور میں داخل ہوا۔ صنعتی ترقی کے ساتھ سماج میں بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ان میں سے سب سے بڑی تبدیلی ذرائع روزگار میں تنوع آ جانا تھا۔ یعنی اب ایک خاندان کے لوگ صرف ایک پیشے سے منسلک رہنے کی بجائے مختلف ذرائع روزگار اختیار کرنے لگے۔ ذرائع مختلف ہونے سے آمدن میں بھی فرق پیدا ہونے لگا۔ آمدن کا یہ فرق خاندان میں افراد کی برابری پر اثر انداز ہوتے ہوئے ان کے مقام و مرتبے طے کرنے میں اہم کردار ادا کرنے لگا۔
زراعت سے وابستہ رہنے والے لوگوں کی آمدن کم ہونے لگی اور انڈسٹریلاایشن کے نتیجے میں ملازمت اختیار کرنے والے لوگوں کی آمدن بتدریج بڑھنے لگی۔ اب وہ زراعت میں خود کو لیبر فورس کے طور پر پیش کرنے کی بجائے زراعت میں صرف سرمایہ کاری کرنے لگے۔ اس ساری کشمکش کے نتیجے میں جو منظر نامہ ابھر کر سامنے آیا وہ کچھ یوں ہے
ایک خاندان جس میں تین بھائی اپنے بیوی بچوں اور والدین کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک بھائی تعلیم یافتہ ہے، شہر میں کسی نام ور فرم میں اچھے عہدے پر فائز ہے اور پر کشش ماہانہ تنخواہ حاصل کرتا ہے۔ چونکہ وہ خود پڑھا لکھا ہے اس لیے اس نے شادی بھی پڑھی لکھی خاتون سے کی اور اس کے بچے بھی اچھے سکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں. جب کہ باقی دونوں بھائی بالکل ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے ہیں اس لیے وہ زراعت سے ہی وابستہ ہیں اورزراعت سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان کا طرزِ زندگی بھی غیر ترقی یافتہ اور دقیانوسی ہے، ان کی بیویاں بھی ان پڑھ ہیں اور بچے بھی اچھے تعلیمی اداروں کی بجائے روایتی یا سرکاری تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ بڑا بیٹا چونکہ بظاہر زیادہ ترقی یافتہ ہے اس لیے گھر سے باہر گھر کی عزت بھی اسی وجہ سے ہے لہذا والدین کا جھکاو بھی لا محالہ طور پر اپنے اسی بڑے بیٹے کی طرف زیادہ ہے۔
بڑے بیٹے کو اس گھر میں سے زراعت کی وجہ سے دودھ، چاول اور آٹا مل رہا ہے اس کے بدلے وہ زراعت میں سرمایہ کاری کر دیتا ہے۔ لیکن خود عملی طور پر اس میں شریک نہیں ہوتا۔ محض پیسہ لگانے اور جسمانی طور پر حصہ نہ لینے کی وجہ سے اسے اپنے گھر میں “boss ” کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ مندرجہ بالا منظر نامہ یہ بتا رہا ہے کہ وہ خاندان جس کی اساس “برابری” پر تھی۔ اب وہاں سے برابری کا عنصر غائب نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف ماہانہ اچھی خاصی آمدن، جدید طرزِ زندگی اچھے سکولوں میں جاتے بچے اور پڑھی لکھی بیوی جب کہ دوسری طرف ششماہی آمدن اور وہ بھی قلیل، پرانا اور کمتر طرزِ زندگی، ان پڑھ بیویاں اور معمولی سکولوں میں زیر تعلیم بچے، یعنی اختلافات کی بھرمار ہو چکی ہے۔
ان میں سے ہر اختلاف ایک الگ جھگڑے اور لڑائی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ تینوں بھائیوں کی بیویوں کے اختلافات مشترکہ خاندانی نظام کے لیے سب سے بڑا نقصان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید صنعتی معاشرے میںں مشترکہ خاندانی نظام رزو بروز زوال اور زبوں حالی کا شکار ہے۔ مگر ہم چونکہ ابھی مکمل طور صنعتی معاشرہ نہیں بنے اور نہ ہی مکمل طور پر زرعی معاشرہ رہے ہیں اس لیے اس وقت نیم زرعی یا نیم صنعتی معاشرے میں بدل چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ ہمیں خاندانی نظام کو ترک کرنا ہے یا اسے قصہء ماضی مان کر نئے، آزاد خاندانی نظام کو کھلے دل سے قبول کر لیں۔ وہ لوگ جو روایت سے جڑے ہیں وہ مشترکہ خاندانی نظام کے طرفدار ہیں جبکہ دوسری طرف ایسے افراد نوشتہء دیوار کو پڑھتے ہوئے صنعتی معاشرے کو آج کی حقیقت مان چکے ہیں اور اس معاشرے کے لیے نیوٹرل خاندانی نظام کو ہی موزوں خیال کرتے ہیں۔
میرے اپنے ذاتی خیال اور رائے کے مطابق مشترکہ خاندانی نظام کسی طور بھی جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ برابری اور تعاون جو اس کے اساسی عوامل تھے وہ اوپر بیان کردہ وجوہات کے کارن ناپید ہو چکے ہیں۔ اور ان خوبیوں کی جگہ “استحصال اور فساد” جیسی برائیوں نے لے لی ہے۔ میرے خیال میں مشترکہ خاندانی نظام کو آوٹ ڈیٹڈ مان کر اسے خیر باد کہنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو معاشرے کے ذیادہ تر افراد کی ذہنی و جسمانی صلاحیتیں گھریلو نا چاقیوں سے جنم لینے والے بحرانوں کی نذر ہو جائیں گی۔
وہ تمام لوازمات جو انسانی زندگی کی بہترین نشو ونما کے لیے ضروری ہیں جیسا کہ برابری، شخصی آزادی، بچوں کی مناسب تربیت اور تعاون اس وقت صرف نیوٹرل فیملی سسٹم مہیا کرتا ہے۔ اگرچہ یہ تمام کبھی مشترکہ خاندانی نظام کی اساس ہوا کرتے تھے۔
لہذا اگر ہم ذرائع آمدن اور معاش کے اختلاف کو ختم نہیں کر سکتے تو ہمیں مشترکہ خاندانی نظام کو جلد یا بدیر ترک کرنا ہی پڑے گا۔