قرآن جب عورت کی تخلیق کے موضوع کو زیرِ بحث لاتا ہے تو آغاز یہاں سے کرتا ہے “عورت اور مرد کو نفسِ واحدہ میں سے تخلیق کیا اور پھر ان کا جوڑ بنا دیا” یہ وہ جملہ ہے جس کو اگر باریک بینی اور عقل کے بند کواڑ کھول کر دیکھا اور سمجھا جائے تو اس وقت دنیا میں جاری مرد و زن کے باہمی رشتے کی بحث ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے. ہمارے ہاں مرد و زن کے باہمی تعلق کے حوالے سے جو خیال سب سے زیادہ مضبوط اور غالب ہے وہ “حاکم و محکوم” کا ہے۔ یعنی مرد حاکم ہے جبکہ عورت محکوم ہے۔ یہ تصور یہاں پہ ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کی شرع میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چونکہ مرد حاکم ہے اس لیے لازمی طور پر وہ ہر لحاظ سے افضل ہے اور عورت اس سے کم درجے کی مخلوق ہے اور پھر اسی تصور پر عورت کے حقوق کی عمارت کو استوار کیا جاتا ہے۔
اس تصور کے زیرِ اثر رہتے ہوئے قرآن جیسی واضح ہدایت کی موجودگی میں بھی عورت سالہا سال سے استحصال اور ظلم کا شکار ہوتی چلی آ رہی ہے۔ اور اب تو حالات کی گھمبیرتا کا عالم یہ ہے کہ استحصال کے پنجرے میں قید رہتے رہتے اسے اپنی زنجیروں سے پیار ہو چکا ہے اور وہ اسے ہی اپنے خالق و مالک کی طرف سے تقدیر میں لکھا سچ مان کر جینے لگی ہے۔ مرد کی حاکم ہونے کے تصور کے زیرِ سایہ پروان چڑھنے والے ان خیالات کا جائزہ اگر مندرجہ بالا قرآنی الفاظ کی روشنی میں لیا جائے تو دھوکے اور کم فہمی پر قائم یہ ساری عمارت زمیں بوس ہونے میں چند ثانیے بھی نہیں لگیں گے۔
“.ذرا غور کیجیے کہ قرآن کیا کہتا ہے : “ہم نے مرد اور عورت کو نفسِ واحدہ میں سے تخلیق کیا
اس بیان کا سیدھا اور سادہ سا مطلب یہ ہے کہ عورت بھی ان تمام خصوصیات کی حامل ہے جن کا مرد بطور “انسان” مالک ہے۔۔ یعنی عورت میں بھی عقل اسی قدر موجود ہے جس قدر مرد کے حصے میں آئی ہے یہ نعمت۔۔ عورت بھی اسی طرح خوشی،غم،غصے اور نفرت کے جذبات کی پیکر ہے جس طرح مرد کی ذات ان احساسات کی پیکر ہے۔۔ عورت کی تخلیق میں بھی وہ تمام عناصر موجود ہیں جو مرد کی تخلیق کے وقت استعمال کیے گئے۔
اگر ابھی بھی سمجھنا مشکل ہے تو ایک مثال سے سمجھاتا ہوں. ایک برتن میں دس کلو دودھ موجود ہو اور اس میں سے دو کلو دودھ نکال کر کسی دوسرے برتن میں ڈال دیا جائے۔
تو کیا وہ جو دو کلو دودھ ہے اس کی ماہیت میں کوئی تبدیلی واقع ہو جائے گی؟ کیا وہ تمام اجزاء جو دودھ کی تخلیق میں پائے جاتے ہیں وہ اس دوکلو دودھ میں بھی اسی طرح نہیں موجود رہیں گے؟ کیا اس دو کلو دودھ کے قطروں میں بھی کیلشیم کی مقدار اتنی ہی نہیں ہو گی جتنی دس کلو والے برتن میں تھی؟ اگر کوئی بھی ذی روح یہ سمجھتا ہے کہ دو کلو دودھ کے اجزائے ترکیبی میں معمولی سی بھی تبدیلی واقع ہو گی تو اس کی عقل پر ماتم کے سوا کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا۔
قصہ مختصر یہ کہ عورت اور مرد کا نفسِ واحدہ میں سے تخلیق ہونا اس بات کا واضح اور بیّن ثبوت ہے کہ عورت بھی بطور انسان ہر لحاظ سے مرد کے برابر ہے۔ اب آ جائیں قرآنی آیت کے دوسرے حصے یعنی “ہم نے ان کے جوڑ بنائے” والی بات پر جوڑ کی جگہ قرآن میں لفظ “زوج” استعمال ہوا ہے۔ اور عربی لغت کے اندر زوج کا لفظ دو ایسی چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو ہر لحاظ سے ایک جیسی ہوں۔ ایلیٹ کلاس کی عربی میں اب بھی بیوی کے لیے لفظ “زوجہ” استعمال نہیں ہوتا کیوں کہ زوجہ کم تر درجے کی عربی لغت کا لفظ ہے جس سے عورت کی تانیث کر کے اسے کمزور ظاہر کرنا مقصود ہےلیکن اعلی درجے کی عربی لغت اور قرآن پاک میں کہیں بھی زوجہ کا لفظ استعمال نہیں ہوا کیوں کہ یہ اپنے معنوں کے اعتبار سے جوڑ کی خصوصیات کا مکمل احاطہ نہیں کرتا۔
اب “زوج” کے اس تصور کو ذرا روز مرہ زندگی سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ یار فلاں کھلاڑیوں کا جوڑ برابر کا ہے۔ فلاں طالبعلموں کا بڑا زبردست جوڑ ہے۔ اور جب ہم یہ جملے بول رہے ہوتے ہیں تو ہمارے ذہن میں جوڑ کا جو معنی ہوتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ مذکورہ دونوں کھلاڑی خوبیوں،خامیوں اور صلاحیتوں کے اعتبار سے ایک ہی درجے کے ہیں۔ اسی طرح جن طالبعلموں کے جوڑ کا ذکر کرتے ہیں ان سے بھی ہماری مراد یہی ہوتی ہے کہ دونوں ہی صلاحیتوں اورذہانت کے اعتبار سے “برابر” ہیں۔ بحث کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں دست بدستہ یہی گزارش کروں گا کہ یہاں وہاں کی سننے کی بجائے اپنے خالق کے الفاظ پر غور کیجیے، آپ کی ساری غلط فہمیاں جاتی رہیں گی۔
اور دوبارہ کبھی مرد و زن میں سے کسی کو دوسرے سے کم تر، یا کم تر صلاحیتوں کا مالک سمجھنے کی نوبت نہیں آئے گی۔
کیوں کہ زوج ہوتا ہی وہ ہے جو “برابر” ہو۔۔۔ اور مرد اور عورت ایک دوسرے کے زوج ہیں۔ ان کو ایک دوسرے سے کم تر سمجھنا “زوج” کے قرآنی تصور کی نفی ہے۔ اور جن گھروں میں یہ خیال راسخ ہے کہ مرد افضل ہے اور عورت اسفل وہاں آپ کو “زوج” کے رشتے کی خوبصورتی کبھی نظر نہیں آئے گی۔ عورت کو “زوجہ” سے زوج کا درجہ دیجیے پھر دیکھیے گا کہ آپ کی دنیا کتنی حسین اور دلکش بن جاتی ہے۔